سندھ  میں خطرناک بیماری۔۔۔

Aids spread in Sindh

تازہ ترین) سندھ میں ایڈز جیسی خطرناک بیماری جڑ پکڑنے لگی اور مریضوں  کی تعداد پینتالیس ہزار تک جا پہنچی۔سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق سندھ میں مجموعی طورپر 45ہزار افراد ایڈز وائرس سے متاثر ہیں ان میں ایڈزکنٹرول پروگرام کے تحت 4ہزار 747 مریضوں کو رجسٹرڈ کیاگیا ہے جن کا علاج جاری ہے، اعدادوشمار کے مطابق کراچی سمیت سندھ میں رواں سال ایڈزوائرس کے مریضوں میں7فیصد اضافہ ہوا ہے جوایک خطرناک علامت ہے، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر یونس چاچڑ نے ایکسپریس کو بتایا کہ سندھ میں 16ہزار افراد انجکشن کے ذریعے نشہ کرتے ہیں، 6ہزار742 میل سیکس ورکرز، 9 ہزار 69 خواجہ سرا اور فی میل سیکس ورکرز کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جن کی وجہ سے ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت 9ہزار107متاثرہ افراد کا علاج جاری ہے، کراچی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ کراچی میں میل سیکس ورکرز، خواجہ سرااورفی میل سیکس ورکرز ایچ آئی وی ایڈ وائرس کے پھیلاؤکا سبب بن رہے ہیں، ایک ہی سرنج کے ذریعے نشہ کرنے اورجنسی بے راہ وری سے بھی وائرس تیزی سے پھیلتا ہے،ان کاکہناتھاکہ یکم دسمبرکو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منایاجائیگا اس دن کی مناسبت سے جمعرات کو سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت میڈیا آگاہی ورکشاپ بھی منعقد کیاگیا تھا جس میں اس مرض کی علامات کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

Leave a Reply