لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ،، زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

ہنسی آتی ہے مھجے حسرتِ انساں پر

فعلِ بد توخود کریں لعنت بھیجے شیطان پر”

— تازہ ترین—- وہ عظیم مفکر ،وہ عظیم ہستی ،جنہوں نےقوم کو ایک نئِ سوچ کا نداز دیا، وہ عظیم شاعر جنہوallama iqbal ں نے پاکستان کا تصور دیا اور قوم کو ایک نیا انداز جوش جزبہ دیا جن کی شاعری اب بھی پاکستان کی تاریخ کی یاد دہانی کرتی ہے- نونومبر 1877 کو سیالکوٹ میں آنکھ کھولنے والے علامہ محمد اقبال نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہور کا رخ کیا۔ 1899 میں ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور اس دوران شاعری بھی جاری رکھی۔ علامہ اقبال نے 1905 میں برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنزاِن میں وکالت کی تعلیم لینا شروع کردی بعد ازاں بعد وہ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے انھوں نے  فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔ 1934 کو مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے رکن بنے تاہم طبیعت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ قیام پاکستان سے 9 برس قبل 21 اپریل 1938 کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے-قوم آج شاعر مشرق علامہ اقبال کا یوم پیدائش عقیدت و احترام سے منا رہی ہے۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری زندہ شاعری ہے، جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے ایک روشنی کا چراغ روشن کرے گی-۔

Leave a Reply