ایران سے پابندیاں اٹھانے کی امریکہ، یورپ کی منظوری۔

(تازہ ترین) امریکہ اور یورپی یونین نے رسمی طور پر ایران پر عائد تجارتی پابندیاں اٹھانے کی قانونی منظوری دے دی ہے تاہم اس پر عملدرآمد ایران کیAmerica and Europe agrees to lift ban on Iraq جانب سے جوہری معاہدے کی شرائط پوری کرنے کے ساتھ ہی شروع ہو سکے گا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ’منظوری کا دن‘ قرار دیا گیا جب امریکہ سمیت ایران سے معاہدہ کرنے والی چھ عالمی طاقتوں نے اس معاہدے کی رسمی طور پر توثیق کی۔

تاہم ایران جس کے ساتھ رواں سال جولائی میں عالمی طاقتوں نے معاہد ہ کیا تھا کا کہنا کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور ممکن ہے کہ یہ رواں ہفتے ہی شروع ہو جائے۔

خیال رہے کہ معاہدے عملدرآمد کے بعد اگلہ مرحلہ تب آئے گا جب بین القوامی ایٹمی ایجنسی، آئی اے ای اے کی ٹیم اس بات کی توثیق کرے گی کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں نمایاں کمی کی ہے۔

ایران پابند ہے کہ وہ جوہری افزوردگی کے ذخیرے کو تلف کرے، پلوٹونیم بنانے والے ریی ایکٹر کو بند کرے اور سینٹری فیوجیز کو ختم کرے۔

جب تک ایران اس سمجھوتے پر عملدرآمد نہیں کر لیتا تب تک پابندیاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی اور غیر ملکی فرمز ایران کے بینکوں اور تیل کی صنعتوں سے بھی رابطہ نہیں کر سکیں گی۔

پیر کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک جن میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ شامل ہیں کے سفیر ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد ایک کمشن قائم کرنا ہے جو جوہری معاہدے پر عملدرآمد کے امور کی نگرانی کرے گا۔

اتوار کو جاری ہونےوالے بیان میں امریکی صدر براک اوباما نے اس پیش رفت کو ایران کو جوہری ہھتیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ ہے کہ’ اگر اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہو گیا تو یہ پہلی بار اندرونی معلومات فراہم کرے گا اور یہ ہمیشہ کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کا احتساب ہوگا۔‘

ادھر ایران کی جوہری ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نتانز اور فورڈو کے علاقوں میں قائم ہزاروں سینٹریفیوجز کو تلف کرنے کے لیے صدر روحانی کے حکم کے منتظر ہیں۔

Leave a Reply