بوکو حرام کے خلاف کارروائی کے لیئے امریکی فوج کیمرون روانہ۔

(تازہ ترین) امریکہ کے صدر براک اوباما نے افریقی ملک کیمرون میں اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف جنگ کے لیے امریکی فوجیوں کیAmerica sends army troop to Cameron تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

تقریباً 300 فوجیوں کا یہ دستہ شدت پسندوں کی فضائی نگرانی کے علاوہ علاقے میں جاری مہمات میں مدد کرے گا۔

افریقی ملک کیمرون اور چاڈ شمالی نائجیریا کے شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ ضرورت پوری ہونے تک امریکی فوجی کیمرون میں تعینات رہیں گے۔

امریکی کانگریس کو مطلع کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ 90 فوجیوں کا ایک گروہ پیر کو ہی کیمرون روانہ کر دیا گیا ہے۔

نیروبی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ٹومی اولاڈپو کا کہنا ہے کہ امریکہ اس علاقے میں اپنے ساتھیوں اور مفادات کے لیے بوکو حرام کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بھانپ چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بوکو حرام اور دیگر شدت پسند گروہوں کے مغربی افریقہ میں پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکہ کے نگرانی کرانے والے جہازوں اور عملے نے گذشتہ برس شمال مشرقی نائجیریا سے اغوا ہونے والی سکول کی طالبات کی تلاش میں مدد دی تھی تاہم بوکو حرام کے خلاف پہلی مرتبہ امریکہ نے اپنی جنگی فوج روانہ کی ہے۔

کیمرون اس وقت سے بوکو حرام کے نشانے پر آیا ہے جب سے اس نے شدت پسند گروہ کے خلاف نائجیریا کی لڑائی کی حمایت کا اعلان کیا۔

کیمرون میں اتوار کو دو خواتین خود کش حملہ آورووں کے حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے تھے۔

Leave a Reply