ٹیکنالوجی کے بارے میں بھارت کا اعتراض درست ہے-ای ین چیپل

  سڈنی– تازہ ترین — متنازع ڈی آر ایس کی مخالفت میں مزید بولنےلگیں، آسٹریلیا کے سابق کپتان ای ین چیپل نےien chappell بھی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھارتی مخالفت کو جائز قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت شروع سے ہی ڈسیشن ریویو سسٹم (ڈی آر ایس) کی مخالفت کررہا ہے مگر اب اور بھی کئی جگہوں سے ان کی حمایت میں بولنے لگیں ہیں-  گذشتہ دنوں پاکستانی ہیڈ کوچ وقار یونس اور ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کو زبان دی تھی، اب ای ین چیپل بھی بھارتی موقف کو جائز قرار دے ڈالا ہوگئے ہیں۔

انھوں نے ایک ویب سائٹ کے لیے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان گذشتہ دنوں اختتام پذیر ہونے والے برسبین ٹیسٹ میں میں صرف ایک فیصلے کی بنیاد پر یہ کہتا ہوں کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں بھارت جو اعتراض کر رہا ہے وہ ٹھیک ہے-گابا میں امپائر نے برینڈن میک کولم کو سلپ میں کیچ قرار دیا۔ ان کے مطابق گیند بیٹ سے ہوتی ہوئی پیڈ پر لگی اور پھر فیلڈر کے ہاتھوں میں گئی مگر ٹیکنالوجی یہ ثابت ہی نہیں کرپائی کہ گیند پہلے بیٹ سے لگی، اس لیے ایک درست فیصلے کو ڈی آر ایس نے غلط قرار دے دیا۔

 آئی سی سی کو خود ہی ٹیکنالوجی کے استعمال پر اخراجات برداشت کرنے چاہئیں تاکہ ہر سیریز میں ایک جیسی چیزیں استعمال ہوں۔ چیپل نے مزید کہا پہلے نوجوان کھلاڑیوں کو  امپائرز کے فیصلے پر عمل کرنے کا کہا جاتا مگر اب امپائرز کے فیصلوں کو چیلنج کرکے ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں- انھوں نے کہا کہ جب تک ڈی آر ایس کی خامیوں کو دور کرنے کیلیے مکمل اوور ہالنگ نہیں کی جاتی تب تک میں اس بارے میں بھارتی موقف کو ہی درست قراردوں گا۔

چیپل نے کہا کہ ریویو کی مقررہ تعداد بھی بہت بڑا ایشو ہے، اسی ٹیسٹ میں میک کولم آخر میں اپنے خلاف ہونے والے غلط فیصلے کو اس لیے چیلنج نہیں کرپائے کہ اس وقت نیوزی لینڈ کے پاس کوئی ریویو باقی نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ڈی آر ایس کے لیے ٹیکنالوجی کی فراہمی میزبان براڈ کاسٹر پر عائد ہوتی ہے اور وہی اسے استعمال کرتا ہے، براڈ کاسٹرز کا بزنس لوگوں کو اینٹرٹین کرنا ہے، انھیں کسی بھی صورت میں فیصلہ سازی کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔

Leave a Reply