سینیٹ کاروائی کا مختصر احوال

تازہ ترین) گزشتہ روز سینیٹ اجلاس  میں توانائی منصوبوں کے حوالے سے  حکومت کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سمیت توانائی کے 7 منصوبے زیرِ غور ہیں۔  سینیٹ اجلاس میںenergy sector وزارت پانی و بجلی کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا جس کے مطابق کالا باغ ڈیم بنانے سمیت توانائی کے 7 منصوبے زیر غور ہیں۔تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس خریف سیزن کے دوران سمندر میں گرنے والے پانی کی مقدار 35.86 ملین ایکڑ فٹ تھی جبکہ 1976ءسے 2015ء  تک ملک میں دستیاب پانی اوسطا 144.57 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

اس کے علاوہ وزیر ہاؤسنگ نےتحریری جواب میں بتایا کہ اسلام آباد میں 197 پولیس اہلکاروں نے سرکاری فلیٹس پر قبضہ کر رکھا ہے، اسٹیٹ آفس کے ذریعے فلیٹس کو خالی کرانے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔وزیر پٹرولیم کی جانب سے سینیٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ امریکی پابندیوں کے پاک ایران گیس پائپ لائن پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ سانحہ منیٰ کے بعد 18 پاکستانی حجاج کرام تاحال لاپتہ ہیں، سینیٹ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2015 بھی منظور کر لیا۔

Leave a Reply