تیسری عالمی جنگ کے سائے منڈلانے لگے

ماسکو (تازہ ترین) شام میں روس کی مداخلت پر امریکا پہلے ہی پریشان تھا کہ اب روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے شام میں ایک ایسا خوفناک ہتھیار پہنچادیا ہےRussian President Vladimir, President Vladimir Putin,Russia's intervention in Syria کہ جس کی وجہ سے امریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی نیند بھی اڑ گئی ہے۔ جریدے ڈیلی میل کے مطابق روس نے انتہائی طاقتور گراﺅلر اینٹی ائیرکرافٹ میزائل سسٹم شام پہنچادیا ہے جو 90 ہزار فٹ کی بلندی تک طیاروں کو نشانہ بناسکتا ہے اور اس کی رینج اسرائیل تک ہے۔ روسی فوج نے S-400 ائیرڈیفنس سسٹم کی تصاویر جاری کی ہیں جسے شامی ساحل کے قریب لتاکیا ائیربیس پر نصب کیا گیا ہے۔ نیٹو ممالک میں یہ میزائل سسٹم SA-21 گراﺅلر کے نام سے جانا جاتا ہے۔

 اس کی ہدف کو نشانہ بنانے کی رینج 250 میل ہے جبکہ یہ عام اینٹی ائیرکرافٹ ہتھیاروں کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ بلندی پر پرواز کرتے طیاروں کو نشانہ بناسکتا ہے۔ شامی کے ساحلی شہر لتاکیا میں نصب کئے گئے یہ میزائل ترکی، قبرص اور اسرائیل تک مار کرسکتے ہیں۔ اس کا جدید اور طاقتور راڈار سسٹم بیک وقت 300 اہداف پرنظر رکھ سکتا ہے۔
امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے لئے یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ روسی اینٹی ائیرکرافٹ سسٹم ناصرف ان کے طیاروں کی شناخت کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ انہیں گرا بھی سکتا ہے۔ اسے برطانوی جنگی جہاز RAF ٹورنیڈو اور امریکی F15 اور F16 کے لئے خصوصی طور پر خطرہ قرار دیا جارہا ہے، جبکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ روسی میزائل سسٹم امریکا کے جدید ترین ففتھ جنریشن F22 ریپٹر کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکا کے لئے ایک خصوصی پریشانی یہ بھی ہے کہ راڈار سے خفیہ رہنے والے اس کے سٹیلتھ طیارے بھی روس کے خطرناک اینٹی ائر کرافٹ سسٹم کی نظر سے بچ نہیں سکتے۔

 

Leave a Reply