پاکستان میں ووٹوں کی نئی تقسیم

 (تازہ ترین) پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر  مختلف خصوصیات کی حامل ایک منفرد اور انوکھی تصویر نمایاں ہو رہی ہے ۔۔جو ایک تباہ کن معاشرتی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے ۔  مختلف سیاسی جماعتو ں کے کارکنان اور حامیوں کے مابین فرق بجا طور پر موجود ہے خواہ اس کا تعلق نظریات سے ہو یا نفسیات سے

اگر ہم تجزیہ کریں تو یہ بات رخِ روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ پاکستان میں موجود بڑی سیاسی جماعتوں کے حامیوں میں نہ  صرف اس مخصوص پارٹی بلکہ ایک خاص طبقے کی خاص سوچ کی جھلک نظر آتی ہے۔  یعنی ہر کارکن سوچ کے مخصوص سکول سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کارکنا ن میں نئی نسل کے جوشیلے نوجوان بھی ہیں اور برسوں پرانی سیاسی جماعتوں کے پیروکار بھی ، جنھوں نے اندازِ سیاست اپنے آباؤاجداد سے سیکھا۔

                      vote bank,pakistan politics, Imran Khan, Nawaz shareef

پاکستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے ۔ تاہم ان کے نظریات اور پارٹی منشور دوسری سیاسی جماعتوں سے قدرے مختلف ہیں۔

                          vote bank,pakistan politics, Imran Khan, Nawaz shareef

عام آدمی کی سیاست، سیاسی پارٹی اور اپنے لیڈر سے  محبت اپنی جگہ لیکن ہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ پاکستان کے دیہاتو ں اور قصبوں کے علاوہ اہم شہروں کے باسی بھی  تعلیم، صحت اور اور روزگار  جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔

vote bank,pakistan politics, Imran Khan, Nawaz shareef

ملک میں ہر سال آنے والا سیلاب  اپنے ساتھ ہزاروں  جانوں کے ضیاع کا سبب تو بنتا ہی ہے ، اس پر ستم یہ کہ ہر نئے آنے والے سال کے لیے مناسب منصوبہ بندی کا فقدان بھی سیاستدانوں کا المیہ ہی نہیں بلکہ قومی وطیرہ بن چکا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی یہ سب وہ vote bank,pakistan politics, Imran Khan, Nawaz shareefعوامل ہیں  جو پاکستانی سیاست کو آلودہ کیئے ہوئے ہیں۔

                          اگر ہم اپنے اردگرد موجود  مہذب معاشروں اور با شعور اقوام کے  حالاتِ زندگی پر ایک نظر دوڑائیں  تو یہ حقیقت آشکار ہو گی کہ ان اقوام نے  نوجوانوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ ان اقوام نے نوجوانوں کی تربیت اپنے ووٹ بینک کی حیثیت سے نہیں بلکہ  قوم کے معمار کی حیثیت سے  کی ۔

vote bank,pakistan politics, Imran Khan, Nawaz shareef

  معیارِ تعلیم کی بہتری ہی ایسی بہتری ہے جو کسی بھی معاشرے کی تمام کمزوریوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کافی ثابت ہوسکتی ہے۔بنیادی ضروریاتِ زندگی کی عدم فراہمی جمہوریت کی روح کو مجروح کرتی ہے۔  جمہوریت کے حقیقی ثمرات تبھی حاصل ہوسکتے ہیں جب عام آدمی کی زندگی  پرامن ہو گی ۔

Leave a Reply