ریڈیوکو اندسٹری کا درجہ حاصل

تازہ ترین) حکومت کو ریڈیو کو صنعت کا درجہ دینے پرخاصہ غور کیا جا رہا ہے- سیمینار میں اس فیلڈ سے منسلک ملک بھر سے زائد مالکان اور ماہرین نے PEMRAشرکت کی- پاکستان میڈیا ریگو لیڑ اتھارٹی کسی قسم کی میڈیا ریٹنگ کی سیاست کے معاملے میں آنا نہیں چاہتے اس کے بندوبست  کا ذمہ نجی شعبے کو خود اٹھانا ہو گا- ان کاکہنا تھا  کے ریڈیو کی ترقی کے لئے ریڈیو کو صنعت کا درجہ دینا ہو گا اور حکومت اس حوالے سے غور کر رہی ہےتاکہ اس کی ترقی ممکن ہو سکے- یہ ساری گفتگو پیمرا کے چیئرمین کمال الدین ٹیپو نے بی بی سی ورلڈ سروس کے توسط سے ایف ایم ریڈیو کے فیوچر کے بارے میں ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیں- ان کا کہنا تھا کے ریڈیو کی ریٹنگ کا کوئی انتظام نہیں ہے اور سامعین کو اتنا علم نہیں ہے کے کون سا سٹیشن کتنا سنا جا سکتا ہےاور سامعین کی پسند کیا ہے- ایف ایم  103

کے سربراہ عمران باجوہ کا کہنا تھا کے جب انہنوں نے اپنے ریڈیو سٹیشن پر نشریات کا آغازکیا تو بی بی سی کی خبریں چلانے پر مجھ کو غدار کہا گیا  لیکن مجھےخوشی ہے کہ بی بی سی اور پیمرا اکھٹے مل کر ریڈیو کی ترقی کے لئے سرگرم ہیں- ایف ایم 99 کے سربراہ نجیب احمد  کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کے پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے اور ٹیکنا لوجی بھی ہے لیکن مقصد واضح نہیں ہے-ایف ایم مالکان کا کہنا تھا کے ریڈیو کو اس طرح نظر اندازنہ کیا جاۓ- نیعم مرزا کا کہنا تھا کے یہ پیمرا کی تیسری کانفرنس پے جو کی یہ ظا ہر کرتی ہے کے پیمرا

Leave a Reply