روس اور ترکی کے درمیان کشیدگی

تازہ ترین: روس نے ترکی پر پابندیاں لگا دی ہیں- ان دونوں ممالک کے درمیان خاصی کشیدگی دیکھنے میں  آ رہی ہے-ترکی کی جانبturkish president سے روسی جنگی طیارے کو گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’آگ سے نہ کھیلے‘، جبکہ روس نے انقرہ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔نیٹو کی رکن ریاست کو سزا دینے کے لیے اقتصادی اقدمات اٹھاتے ہوئے روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترک شہریوں کے لیے جاری کیے جانے والے فری ویزے کو ختم کررہا ہے- ترکی میں داعش کی جانب سے کیے جانے والے متعدد دہشت گردی کے حملوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’روس کو ترکی میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات پر تشویش ہے‘۔یہ بھی یاد رہے کہ 50 سال کے بعد پہلی بار کسی نیٹو رکن ملک نے روس کا جنگی طیارہ گرایا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی نے ’حدود کو عبور‘ کیا ہے، ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ مذکورہ واقعے سے ترکی کے مقامی اور بین الاقوامی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ماسکو کا مزید کہنا ہے کہ مذکورہ واقعے کے باعث ترکی کے ساتھ شروع کیے جانے والے دو اہم منصوبے، گیس پائپ لائن اور جوہری بجلی گھر کا منصوبہ متاثر ہوسکتا ہے-

رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی نے ’جان بوجھ کر‘ روسی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا۔انھوں نے شام میں کریملن کی پالیسی کے تحت ستمبر میں شروع کی جانے والی فضائی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روس ’ایک قاتل‘ (بشار الاسد) کی مدد کررہا ہے نہ کہ داعش کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان روس کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کو شام میں مدد فراہم کرنے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے جبکہ ترکی شامی حکومت کے مخالف عسکریت پسند گروں کی حمایت کررہا ہے۔ادھر انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ’ہم روس کو تجویز دیتے ہیں کہ وہ آگ سے مت کھیلے‘۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے روس کو طیارے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شام میں بشار الاسد کی مدد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

Leave a Reply