،،،،،،ا2005اور 2015کے زلزے میں فرق

 تازہ ترین— قدرتی آفات کو تو کوئی نہیں روک سکتا مگر اس ہونے والی تباہی سے متاثر لوگوں کے لیے کیا earth quakeاقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ اس قدرتی آفات سے ہونےوالی تباہی سے نمٹا جاسکے-

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.5ریکارڈ کی گئی جبکہ محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ پاکستان میں زلزلے کی شدت 8.1تھی۔  زلزلے کا مرکز افغان دارلحکومت کابل سے 265کلومیٹر تھاجبکہ محکمہ موسمیات کا کہناہے کہ زلزلے کی گہرائی 193کلومیٹرتھی186اموات اس زلزلے کے باعث واقع ہوئی-2005کے زلزے میں کتنے لوگ اس دینا سے کوچ کر گئے اور 2015کے  زلزے سے کتنی جانیں اس دینا سے کوچ کر گئی

earthquake

2005 کے زلزلے کی شدت 7٫6ریکارڈ کی گئ،جبکہ اس کی گہرائی 15کلو میٹر تھی-اور اس زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد  87،350 تھی،جبکہ 186اموات اس زلزلے کے باعث واقع ہوئی-اس طرح کی قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کا ہونا  ضروری ہے اوران مالی وسائل میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے ،مالی وسائل کی مزید فراہمی کے لیے اقدامات ہونے چاہیے-

صوبائی اور مرکزی سطح پر اقدامات کیے جائے-

بلڈنگ اتھارٹی کو سرٹیفیکیٹ دینے سے پہلے خود اس بلڈنگ کا دورہ کرے اور وہاں وقت گزار کر اس بلڈنگ کی حالت کے باری میں اہم معلومات حاصل کرنی چاہیے-

میڈیکل ٹیم کو ٹریننگ دی جائے-

فضائی دورے کے لیے بہتر انتظامات ہونے چاہیے-

لوگوں میں قومی شعور پیدا کیا جائے اور لوگوں کوآگاہی دینے کے لیے پراگرام مرتب کرنے چایہے تاکہ لوگوں کو آگاہی دی جائے کہ کس طرح کا مٹیریل بلڈنگ اور گھر بنا نے میں استعمال کرنا چاہیے-

ناگہانی آفات سے نمٹنے کےلیے مل جل کر کام کرنا ہو گا- باہمی تعاون اور اتحاد سے اس تباہی سے متاثرہ افراد کے لیے مل جل کرکام کرنا چاہیے-

 باہمی مہبت کا اظہارمل جل کر کرنا چاہیے-

 ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے سے جاں بحق افرادکی تعداد328ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ 197 ہلاکتیں خیبر پختونخواہ میں واقع ہوئیں جبکہ فاٹا میں 30 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے شانگلہ میں44،چترال میں37اورسوات میں28افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔لوئر دیر میں 22، باجوڑایجنسی 21، کوہستان 19، دیربالا 17، اپر دیر 14، مانسہرہ میں 12 اور بونیر میں 8 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ  پشاور میں6، مردان، غذر میں 5 ،5اور چارسدہ میں4افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

Leave a Reply