نظام تعلیم میں فرق کیوں؟

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو خیال جس کو اپنی حالت بدلنے کا

 

تازہ ترین:   ملک میں اِس وقت ہر طبقے کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم ہیں، مدارس میں پڑھنے والے طلبہ ساری عمر احساسِeducation system کمتری میں مبتلا رہتے ہیں، معاشرے میں انہیں عزت کا مقام نہیں دیا جاتا جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو معاشرے میں مناسب مقام نہیں مل پاتا۔ بیورو کریسی، عدلیہ اور اسمبلی میں نجی اور مہنگے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد کو ہی جگہ ملتی ہے- غریب اور متوسط طبقہ ساری زندگی معاشرتی عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے-جس کی وجہ سے نفرتیں بیج پکڑتی ہیں۔ ظلم راج کرتا ہے، بدامنی کو فروغ ملتا ہے اور عدم برادشت کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔

وائی فائی کو بھول جائیں،لائی فائی کی دنیا میں آئے لنک میں

یکساں نظام تعلیم قوم کو تسبیح کے دانوں کی مانند جوڑ کر رکھتا ہے، پیار بانٹتا ہے، خوشیاں تقسم کرتا ہے، برادشت، امن، خوشی اور محبت کا موجب بنتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں نظریہ پاکستان سے آہنگ نظام تعلیم نافذ کیا جائے اور ایک مستقل قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے لئے یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔ انٹرمیڈیٹ تک دینی و دنیاوی تعلیم کے امتزاج سے ایسا نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے کہ جس کے تحت قرآن و حدیث کی تعلیم ہر طالب علم کے لئے لازمی ہو اور دینی مدارس کے طلبہ کو انگریزی، ریاضی و دیگر علوم کی تعلیم دی جائے۔ اْردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی اور علاقائی زبانوں کو ترقی کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں۔ فنی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔

نظام تعلیم کی بہتری اس کے نصاب کے مرہون منت ہوتا ہے، اس کے ذریعے سے قوم کو مطلوبہ رنگ میں رنگا اور اسے بنایا اور بگاڑا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں قوم عرصہ دراز سے یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ پورے ملک میں گوادر سے کشمیر تک ایک ہی نظام تعلیم ہو۔

قوموں میں قومی جذبہ پروان چڑھانے کے لئے قومی زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکہ میں 82 بڑی قومیں اور زبانیں ہیں، لیکن سب کو متحد کرنے کے لیے ایک قومی زبان، انگلش کو قومی درجہ دیا گیا ہے اور اسی میں تعلیم دی جاتی ہے یا اسی طرح جیسے فرانس، جرمنی، جاپان، روس، چین اور سری لنکا وغیرہ میں تعلیم قومی زبان میں دی جاتی ہے- ہمارا نظام تعلیم ایک جیسا ہونا چاہیے تاکہ ہماری قوم کے بچے ایک جیسی تعلیم  حاصل کر سکیں- اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکیں-

Leave a Reply