بھارت کی پاکستان کے خلاف ایک اور سازش

تازہ ترین— پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے سینیٹ  کا کہنا تھا  کہ اپریل 2012 میں پاکستان اورelectricity agreement ہندوستان کے حکام نے ہندوستان سے 500 میگاواٹ بجلی کی درآمد کے منصوبے پر بات چیت کا آغاز کیا تھا  تاکہ پاکستان میں جاری بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور پاکستان میں بجلی  کی فراہمی کو ممکن بنیا یا جا سکے جس پر  ہندوستان سے 4000 میگا واٹ بجلی کی درآمدگی کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس کو بھارت نے مسترد کر دیا ہے- وزارت پانی و بجلی کے ایک سینیئر عہدیداران کا کہنا تھا کہ ہم کس طرح بھارت کے ساتھ بجلی کی درآمدگی کے بارے میں خیال کر سکتے ہیں  ہندوستان میں موجودہ مودی انتظامیہ نہ صرف پاکستان کے خلاف انتہائی تعصبانہ رویہ کو اختیار کیے ہوئے ہے بلکہ وہ  بات  چیت کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہے.بھارت کی طرف سے پاکستان کیلے اتنی کشیدگی اختیار کہ جا رہی ہے- دوسری طرف ہندوستانی حکومت وہاں پاکستانی گلوکاروں، مصنفین اور کھلاڑیوں خلاف ہندوستان  کی جانب سے ہونے والے  اقدامات پر بھی کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے – ہندوستان ہر طرف سے انکار کی رٹ لگائے ہوئے ہے- اس کے علاوہ گوادر پورٹ کے لیے ایران سے مزید 100 میگا واٹ بجلی، جو کہ فی یونٹ 6.25 روپے یونٹ ہوگی، کے سلسلے میں بھی بات چیت جاری ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے موسم گرما (جب پیدوار میں کمی اور طلب میں اضافے کے باعث ملک کو بجلی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے)  وسطی ایشیا کی دو ریاستوں تاجکستان اور کرغزستان سے 1000 سے 1300 میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے-

Leave a Reply