بازو پر 11 سے زیادہ تل ہوں تو کینسر کا خطرہ۔

(تازہ ترین) برطانیہ میں ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایک بازو پر گیارہ سے زیادہ تل ہوں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایسے شخص کو معمول سےEleven pimple on arm can be causes of canser زیادہ ’میلانوما‘ یا جلد کے کینسر کا خطرہ لاحق ہے۔

اور ہاں دائیں ہاتھ پر تلوں کی گنتی کرنے سے پورے جسم کے تلوں کی تعداد کا بھی پتہ کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق کو برٹش جرنل آف ڈریمولوجی میں شائع کیا گیا ہے جس میں تین ہزار جڑواں لڑکیوں کے ڈیٹا کو استعمال کیا گيا ہے۔

اس کے مطابق ڈاکٹر اس دریافت کی مدد سے ان افراد کی نشاندہی آسانی سے کر سکتے ہیں جنہیں جلد کے کینسر یا میلانوما کا زیادہ خطرہ ہو۔

میلانوما ایک طرح کا جلد کینسر ہے جو جلد کی خلیوں میں خرابی کے سبب خطرناک پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ برطانیہ میں ہر برس تقریباً 13 ہزار افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

یہ بیماری عام طور پر بدن میں پائے جانے والے غیر معمولی تل سے پنپتی ہے۔ اسی لیے میلانوما ہونے کے خطرے کا تعلق تلوں کی تعداد سے ہے، یعنی اگر کسی کو بہت زیادہ تل ہیں تو اسے اس بیماری سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ بھی ہے۔

لندن میں کنگز کالج کے محقیقین نے اس کے لیے آٹھ برس تک بڑی تعداد میں جڑواں لڑکیوں پر کام کیا اور ان کے جسم کی جلدکی نوعیت، اس پر پڑے دھبوں اور تلوں سے متعلق تحقیق کی۔

پھر بعد میں میلانوما سے متاثر چار سو افراد پر مشتمل مرد اور خواتین کے ایک گروپ پر اس تجربے کو دہرایا گیا جس سے انہیں اس طرح کے کینسر کے خطرے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک تیز اور آسان طریقہ ملا۔

جن خواتین کے دائیں بازو پر سات سے زیادہ تل تھے ان کے جسم میں پچاس سے زیادہ تل ہونے اور نو گنا بیماری کا خطرہ تھا۔ اور جن کے دائیں بازو پر گیارہ تل ہوں ان کے جسم بھر میں 100 سے زائد تل پائے گئے اور اس طرح انہیں اس بیماری کا اور زیادہ خطرہ ہوگا۔

اس موضوع پر تحقیق کرنے والے کنگز کالج کے سینیئر رکن سائمن ریبیرو کا کہنا ہے : ’یہ دریافت ابتدا میں اس سے متعلق احتیاط برتے میں بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، عام ڈاکٹر بھی اس طریقے سے مریض کے جسم میں تلوں کی صحیح تعداد کا جلدی سے درست تخمینہ لگا سکتے۔‘

اس تحقیق سے وابستہ ٹیم کے ایک دوسرے رکن ویرونک بیتیلی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی ایک غیر معمولی تل سے پریشان ہے اور اس وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا، تو اس کے ایک بازو پر تل کی تعداد سے ہی خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے اور اس سے پھر وہ بلا تاخیر مخصوص ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں کینسر ریسرچ سے متعلق ادارہ سے وابستہ ڈاکٹر کلیئر نائٹ کا کہنا ہے یہ تحقیق کسی حد تک مدد گار تو ہے لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ میلانوما نامی بیماری بدن پر پائے جانے والے تل سے ہی پنپتی ہے۔ ان کہنا تھا کہ جلد کے ایسے کینسر کے کیسز نصف سے بھی کم تل سے پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میلانوما تو جسم کے کسی بھی حصے پر تل کے بغیر بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply