ترک وزیرِاعظم نے انتہائی افسوسناک غلطی کر دی

Embarrassing mistake of Turkish prime ministerانقرہ (تازہ ترین) دہشت گردی سے پریشان دیگر ممالک کی طرح ترکی میں بھی داعش کے خلاف انتہائی سخت موقف پایا جاتا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم کے نظریات اور امن پسند ترک ریاست کے نظریات میں فرق کے اسی موقف کو واضح کرنے کی ایک حالیہ کوشش میں ترک وزیراعظم ایک انتہائی افسوسناک غلطی کرگئے۔
وزیراعظم احمد داﺅد اولو ترک چینل ”شوٹی وی“ کو بدھ کے روز انٹرویو دے رہے تھے جس میں داعش اور ترک ریاست کے نظریات میں فرق بیان کرتے ہوئے دونوں نظریات کو ایک جیسا قرار دے بیٹھے۔ انہوں نے یہ غلطی ترکی اور داعش کے نظریات کے فرق کو ریاضیاتی انداز میں بیان کرنے کی کوشش میں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش اور ترکی کے مذہبی نظریات میں ”180 ڈگری کا نہیں، بلکہ 360 ڈگری کا فرق ہے۔“ اس حساب سے دیکھا جائے تو ترکی اور داعش کے نظریات میں قطعاً کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ 360 ڈگری کے فرق سے مراد کسی فرق کا نہ ہونا ہے۔
ترکی میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کا الزام داعش پر ہے جن میں سے گزشتہ ہفتے انقرہ میں ہونے والے جڑواں دھماکے سرفہرست ہیں جن میں تقریباً 100 افراد جاں بحق ہوئے۔ان حملوں کے لئے داعش کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے جبکہ کچھ حلقوں کے خیال میں ان کے پیچھے ترک مخالفت کرد گروپ بھی ہوسکتے ہیں، اور بعض حلقوں کی طرف سے ان کا ذمہ دار ترک حکومت کی دہشت گردی کے خلاف ناکامی کو بھی قرار دیا جارہا ہے۔

Leave a Reply