اوور سیز پاکستانیوں کے لیے سہولت

تازہ ترین: اس وقت 80لاکھ پاکستانی (ملکی آبادی کا 4فیصد)140 ممالک میں مقیم ہیں 60لاکھ کے پاس قومی شناختی کارڈ برائے بیرونNIKop مقیم پاکستانی (نیکوپ) موجود ہے-  کمیٹی کو بتایا گیا کہ پوسٹل بیلٹ درحقیقت ای میلنگ سسٹم کا مرکز ہے جو حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ بیشتر اوورسیز پاکستانی خصوصاً مزدور پیشہ لوگ کمپیوٹر کا استعمال نہیں جانتے حتیٰ کہ کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کو بھی ووٹنگ کا عمل پورا کرنے کیلئے ضروری مراحل کی تکمیل میں وقت لگے گایہ بھی حقیقت ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو اکثریت(48فیصد) مشرق وسطیٰ میں مقیم ہے جن کے پاس کوئی پوسٹل سروس نہیں ہے اور پاکستانی مشن پوسٹل آفس کا کردار ادا کرنے کی استعداد نہیں رکھتےالیکشن کمیشن نے پارلیمانی کمیٹی کو مزید بتایا کہ دنیا کے114ممالک اپنے بیرون ملک مقیم شہریوں کو پوسٹل بیلٹ کی سہولت دیتے ہیں –

یہ سہولت فوجی حکام،سفارتکاروں اور اپنے ملک میں رجسٹر کمپنیوں میں کام کرنے والوں تک محدود ہوتی ہے تمام شہریوں کو نہیں دی جاتی، فلپائن نے ای میل سروس کے ذریعہ ایسی کوشش کی تھی صرف دس فیصد نے اندراج کرایا اور اس سے بھی کم نے ووٹ ڈالے، حکومت نے بالاآخر اس کو ختم کردیا، ای سی پی کی کوئی دلیل کمیٹی کے ارکان کو مطمئن نہ کرسکی کیونکہ اگر کوئی ذی فہم آواز تھی بھی تو پی ٹی آئی کے دباﺅ نے اس کو دبادیا، ٹیکنالوجی کی ترقی سے متاثر تحریک انصاف کے ارکان نے انٹرایکٹو وائس رسپانس استعمال کرکے ٹیلی ووٹنگ کے استعمال کی تجویز دی، کوئی چارہ نہ پاکر الیکشن کمیشن نے اس مشق کو سات سفارتی مقامات پر کرنے کیلئے وزارت خارجہ کا تعاون حاصل کیا،ان شہروں میں لندن، گلاسکو، مانچسٹر، بریڈفورڈ،دبئی، ریاض اور نیویارک شامل ہیں جہاں پاکستا نیو ں کی بڑی تعداد آباد ہے، 12لاکھ پاکستانی برطانیہ،12لاکھ متحدہ عرب امارات،9لاکھ امریکہ اور 17لاکھ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

پارلیمانی انتخابی اصلاحات کمیٹی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم نہ کرنے پر الیکشن کمیشن پاکستان کی سرزنش کررہی ہے مگر خود قابل عمل میکنزم نہیں دیا، جب الیکشن کمیشن کی پوسٹل بیلٹ کے استعمال اور ٹیلی ووٹنگ کی مشق بیرون ملک سات شہروں میں ناکامی پر ختم ہوئی تو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے اس ناکامی پر کمیشن کو سرز نش کی مگر کوئی قابل عمل حل پیش نہیں کیا اور نہ ہی کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے اس موقف پر توجہ دی کہ ضروری نہیں، ہر ممکن چیز، قابل عمل بھی ہو، بلکہ کمیٹی ارکان خصوصاً پی ٹی آئی اپنے ممکنہ فنڈز دینے والوں اور ووٹ بینک کے کہنے پر کام کرتی رہی جبکہ دنیا بھر میں اس کی کوئی کامیاب مثال موجود نہیں ہے

کمیٹی میں شامل پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی الیکشن 2018ءسے قبل مصنوعی مشق شروع کرنے کی بریفنگ میں کمیشن پر دباﺅ ڈالتے رہے، اس امید پر کہ پارٹی ووٹ بینک بڑھنے سے سیاسی فائدہ ہوگا،جنگ رپورٹر عمر چیمہ کے مطابق اس سال ستمبر میں بریفنگ کے دوران الیکشن کمیشن نے جب کمیٹی کو بتایا کہ اس مطالبے کو عملی شکل دینے میں کئی رکاوٹیں ہیں تو پی ٹی آئی ارکان نے الزام لگایا کہ وہ ہچکچا ہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں

Leave a Reply