شیخ راشد بن سعید المکتوم ، جدید دبئی کے بانی

تازہ ترین) متحدہ عرب امارات  ، چند عشروں قبل جہاں  صرف ریت اڑاکرتی تھی  اور زندگی کا تصورمحض ایک خیال کے علاوہ  کچھ نہ تھا۔  ایسے میں شیخ راشد بن سعید المکتوم نے اس ویرانے میں  دنیا کا Sheikh rashid جدید ترین شہر آباد کرنے کی ٹھانی۔ اسی لیئے آج انھیں جدید دبئی کا بانی کہا جاتا ہے۔ شیخ راشد 1912ء میں پیدا ہوئے  اور 1958ء سے لے کر اپنی وفات تک دبئی کے حکمران رہے ۔ اس کے ساتھ  ساتھ آپ  1971ءسے اپنے انتقال تک متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم اور نائب صدر بھی رہے۔شیخ راشد المکتوم خاندان کےآٹھویں حکمران تھے۔1970ءکی دہائی کے اوائل میں شیخ راشد نے  اپنے ذہن میں جدید دبئی کا خاکہ  تیار کیا  اور اسے متحدہ عرب امارات کا صنعتی حب بنانے کی جدوجہد شروع کر دی۔

شیخ راشد نے جب دبئی کی تعمیروترقی کے یہ بڑے منصوبے شروع کیے تو مقامی رہنماؤں  حتیٰ کہ غیر ملکیوں نے بھی ان کا تمسخر اڑایا  کیونکہ تمام لوگ ا س منصوبے کو ناقابل عمل قرار دے چکے تھے لیکن شیخ راشد نے اس تنقید کو چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ انہوں نے نہ صرف جدید طرز کا ایئرپورٹ بنایا بلکہ دبئی کو دیئرا سے ملانے کے لیے ندی کے اوپر تاریخی پل بھی تعمیر کروایا۔ اس پل سے قبل ایئرپورٹ تک پہنچنے کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی تھی۔ پل کی تعمیر سے ایئرپورٹ کی افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔

 شیخ راشد نے دبئی بندرگاہ کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی لی اور اس کے لیے جبل علی کا انتخاب کیا۔ 1985ءمیں جبل علی بندرگاہ فری زون کے طور پر کھول دی گئی۔ یہ اس وقت نہ صرف یو اے ای بلکہ خطے کا پہلا فری زون تھا۔شیخ راشد کو جبل علی بندرگاہ سے اس قدر دلچسپی تھی کہ آخری دم تک اس کی خود نگرانی کرتے رہے۔ آخری ایام میں جب وہ بالکل بستر کے ہو کر رہ گئے تب انہوں نے بندرگاہ جانا بند کیا تھا۔

آج متحدہ عرب امارات کودنیا کی کامیاب ترین ریاستوں میں شمار کیا جا تا ہے۔  جدید دبئی کی تعمیر و ترقی شیخ راشد بن سعید المکتوم ہی کی  مرہونِ منت ہے ۔ آپ 7 اکتوبر 1990ء کو پنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔

Leave a Reply