کوئلے کا استعمال بڑھنے لگا

تازہ ترین : بھارت کے تقریبا 30 کروڑ افراد بجلی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں اور ملک کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔  coal  بھارتی وفد  میں شامل سینیئر مذاکرات کار ڈاکٹر اجے ماتھر نے کہا کہ اگر ’زیادہ مہنگی‘ گرین توانائی کے لیے بطور مدد رقم مہیا کی جائے تو کوئلے کا استعمال محدود ہوسکتا ہے۔ بھارت میں توانائی کی شدید قلت ہے اور کہا جارہا ہے کہ توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے 2020 تک بھارت کوئلہ برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہوگا۔ بھارت میں توانائی کی شدید قلت ہے اور کہا جارہا ہے کہ توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے 2020 تک بھارت کوئلہ برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہوگا۔ لیکن بہت سے ممالک نے بھارت کے اس بیان کا یہ کہہ کر خیرم قدم کیا ہے کہ اس سے ایک نئے معاہدے کے طے ہونے کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔

اس کے مطابق ملک میں کوئلے کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کے تحت 2020 تک اسے تقریبا ڈیڑھ ارب ٹن تک کر دیا جائےگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس عشرے کے اختتام تک تقریبا ہر ماہ کوئلے کی ایک نئی کان دریافت کرنا پڑے گی- حال ہی میں بھارتی ماحولیات کے وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے بی بی سی سے ایک بات چیت میں کہا تھا کہ چونکہ بھارت کو ضرورت ہے اس لیے کوئلہ استمال کرنے کا اسے ہر طرح سے حق حاصل ہے۔

ادھر چین نے بھی ماحولیات کے متعلق کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ہوا کی صفائی اور کاربن میں کمی کے لیے وہ بجلی بنانے والے تمام کارخانوں کو بہتر کرے گاچین کا کہنا ہے کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے کوئلے کے پاور پلانٹس کو 2020 تک بند کر دیا جائےگا۔۔

Leave a Reply