دہلی کی طالبات کی پنجرا توڑ مہم۔

(تازہ ترین) بھارت کے دارالحکومت دہلی میں نوجوان طالبات عوامی مقامات پر رہنے کے حق کے لیے ایک مہم کے ذریعے لڑ رہی ہیں جس کا نام ’پنجرا توڑ‘Indian university girl students on street against the govt ہے۔ رات ہوتے ہی کم از کم 60 نوجوان خواتین اور مرد نے دہلی یونیورسٹی کے کچھ پریمیئر کالجوں میں مارچ شروع کر دیا۔

کئی طالب علم پوسٹر اٹھا کر اور نعرے لگا کر خواتین کے ہاسٹل کے باہر کھڑے ہو گئے جہاں پر انھوں نے نظمیں پڑھیں اور رقص کیا۔

ان کے نعرے کچھ اس قسم کے تھے: ’ہمیں کوئی جھوٹا تحفظ نہیں چاہیے۔ آپ آدھے ملک کو پنجرے میں بند نہیں کر سکتے۔‘

باقاعدہ وقفوں کے بعد دہلی یونیورسٹی کے شرکا ’شیم شیم‘ کے نعرے لگا رہے تھے یا پھر تالیاں اور سیٹیاں بجا رہے تھے۔

جس مسئلے پر یہ باہر سڑکوں پر آ کر احتجاج کر رہے ہیں وہ طالبات کے ہاسٹلوں پر ’کرفیو‘ عائد کرنے کا ہے جس کے وقت کے مطابق انھیں واپس ہاسٹل آنا پڑتا ہے۔

پنجرا توڑ تحریک کی شریک بانی دیوانگانا کالیتا ایک 26 سالہ محقق ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ’یہ امتیازی سلوک

انھوں نے کہا ’تحفظ کے نام پر کرفیو یا ڈیڈ لائن لگانا اصلی میں مردوں کے معاشرے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ خواتین کے تحفظ کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اخلاقی پولیس بننے کی کوشش ہے۔‘

طالبات کا کہنا ہے کہ خواتین کے زیادہ تر سرکاری یا نجی ہاسٹل کرفیو کا نفاذ کرتے ہیں۔ کچھ اپنے دروازے شام کے ساڑھے چھ یا ساڑھے سات بجے بھی بند کر دیتے ہیں اور بہت کم ہاسٹل طالبات کو اس سے تھوڑی دیر باہر رہنے دیتے ہیں۔

ہاسٹلوں کا کہنا ہے کہ خواتین پر کرفیو سختی سے نافذ کیا گیا ہے اور جو اسے تسلیم نہیں کریں گی انھیں ہاسٹلوں سے نکال دیا جائے گا۔

مردوں کے ہاسٹلوں کی دستاویزات پر بھی کرفیو کا وقت لکھا گیا ہے لیکن یہ کبھی سختی سے نافذ نہیں کیا گیا۔

یونیورسٹی کی لائبریریاں اور لیبارٹریاں رات کے 12 یا دو بجے تک کھلی رہتی ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے طالبات کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

مس کالیتا کہتی ہیں: ’یونیورسٹی آپ کو بچہ بنا دیتی ہے۔ وہ آپ کو اپنی حفاظت کرنے کے لائق ہی نہیں سمجھتی۔ وہ آپ پر پابندیاں عائد کرتی ہے تاکہ وہ آپ کو ایک ایسی لڑکی بنا سکے جسے شادی کے بازار میں بیچا جا سکے۔ لیکن آج ہم ان سڑکوں پر نکل کر دکھائیں گی تاکہ ہم اپنی خواہشوں اور خوابوں کا اظہار کھلے عام کر سکیں۔‘

23 سالہ شمبھاوی وکرم آرٹس کی طالبہ ہیں جو ایک نجی ہاسٹل میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ پابندیاں صرف ’شرمناک‘ ہی نہیں بلکہ عمارت میں بند ہونا خطرناک اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’دو سال پہلے دہلی میں زلزلہ آیا تھا۔ ہماری عمارت ہل رہی تھی۔ نچلی منزلوں میں رہنے والی طالبات باہر نکل پائیں لیکن چوتھی اور پانچوی منزل میں رہنے والی 20 طالبات اندر بند ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکیں۔ ہم بہت خوف زدہ تھیں۔ وہ صرف بالکنی پر کھڑی ہو کر ہماری شکلیں دیکھ رہی تھیں اور ہم ان کی شکلیں دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ ہم بے بس تھیں۔‘

مس کالیتا کہتی ہیں کہ رات کو چلنے سے یہ طالبات ’عوامی مقامات کے بارے میں نئی سوچ کو اجاگر کرنے کی کوشش‘ کر رہی ہیں۔

ماضی میں طالبات کے احتجاج نے حکام کو کرفیو کا وقت بدلنے پر مجبور کیا تھا لیکن پنجرا توڑ مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔

مہم چلانے والوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے دہلی بھر میں آزادی کی اس تحریک کو چلانے کے لیے طالبات کو متحرک کیا ہے۔

مس وکرم کا کہنا ہے کہ بھارت میں کئی برسوں سے ہر طبقے کی خواتین پنجروں میں رہتی آئی ہیں اور ان سے باہر نکلنے کے لیے پوری زندگی لڑتی آئی ہیں۔

انھوں نے کہا ’45 سے 50 سال پہلے خواتین نے یونیورسٹی جانے کے لیے پنجرے توڑے تھے۔ آج ہم شام کے سات بجے کے بعد لائبریری میں جانے کے لیے اس پنجرے سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

Leave a Reply