ایوارڈ نا منظور ، تحریک چلانے کا فیصلہ

تازہ ترین)  بھارت میں ادیبوں اور شاعروں کی جانب سےسرکاری ایوارڈز واپس کرنے کا سلسلہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکاہے۔اب تک 23شاعر، ادیب اور دانشور اپنے ایوارڈ  بطوراحتجاج واپس کرنےindia کا اعلان کر چکے ہیں۔بھارتی ادیب  کنڑا زبان کے مصنف پروفیسرایم ایم کلبرگی کے قتل اور دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل کے خلاف بطورِ احتجاج اپنے ادبی ایوارڈ واپس کر رہے ہیں۔
ایوارڈز واپس کرنے والے معروف ادیبوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکارعوام اور قلم کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے جبکہ اس حوالے سے انہیں ساہتیہ اکیڈمی کی خاموشی پر بھی تشویش ہے۔ یاد رہے کہ ساہتیہ اکیڈمی بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے قائم کی تھی۔ ساہتیہ  اکیڈمی ملک میں ادب کے فروغ  کا نہایت باوقار ادارہ سمجھا جاتا ہے جو ہر سال 24 زبانوں میں بہترین ادب تخلیق کرنے والے شاعروں ادیبوں کے لیئے ایوارڈ کا اعلان کرتا ہے۔  جواہر لال نہرو ا س اکیڈمی کے پہلے چیئرمین تھے اور مزے کی بات ہی ہے کہ جواہر لال نہرو کی پوتی تارا نین سہگل نے بھی اپنا ایوارڈ واپس کردیا ہے۔ ساہتیہ  اکیڈمی کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں ادیبوں نے اپنے ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ سلسلہ کہیں بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

ایوارڈ واپس کرنے والے ایک اور بھارتی ادیب جوشی کہا کہنا ہے کہ ماحول میں نفرت پھیلا دی گئی ہے۔تخلیق کاروں کے لیے سانس لینا محال ہے۔  ادیبوں پر حملے نہ صرف افسوسناک  بلکہ آزادی اظہار چھیننے کے مترادف ہیں۔

اس سارے معاملے سے ہٹ کر کچھ ادیب ایسے بھی ہیں جو اپنے ساتھی ادیبوں کے احتجاج کی حمایت  تو کرتے ہیں لیکن اپنے ایوارڈز واپس کرنے کے حق میں نہیں ۔ان کے خیال میں ایوارڈ واپس کرنے سے ساہتیہ اکیڈمی کی ساکھ متاثر ہو گی اور حکومت اسے اپنے کنٹرول میں لے لے گی۔ اس طرح ادب اور اہل ادب کو جو نقصان ہو گا ، ناقابلِ تلافی ہو گا۔

Leave a Reply