مخدوم امین فہیم انتقال کر گئے۔۔۔

makhdoom ameen faheem has died

تازہ ترین)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما مخدوم امین فہیم طویل علالت کے بعد 76 برس کی عمر میں کراچی کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے،وہ طویل عرصے سے بلڈ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے،مخدوم امین فہیم حال ہی میں لندن سے کراچی منتقل ہوئے تھے جہاں وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اوردیگر رہنماؤں نے ان سے ملاقات بھی کی۔مخدوم امین فہیم کے انتقال کی خبر سن کر کئی اہم شخصیات نے ہسپتال کارخ کیا ۔چار اگست 1939 کو سندھ کے علاقے ہالا میں پیدا ہونے والے مخدوم امین فہیم سندھ کے بااثر جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔مخدوم امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر بھی تھے.مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینطیر بھٹو کے قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیے جاتے تھے ۔سندھ یونیورسٹی سے 1961 میں گریجویشن کرنے والے مخدوم امین فہیم پہلی بار 1970 کے عام انتخابات میں رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ اب تک 6 مرتبہ رکنِ منتخب کیے جاچکے تھے۔جنرل مشرف کے دور میں انہیں وزارتِ عظمیٰ کی بھی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کردیا۔2008 کے انتخابات میں مخدوم فہیم مٹیاری، حیدرآباد (پرانا حیدرآباد ون) کے حلقہ این اے 218 سے منتخب ہوئے تھے۔2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد، پارٹی کی عملاً سربراہی آصف علی زرداری نے سنبھالی، جس کے بعد محسوس کیا جارہا تھا کہ امین فہیم سیاسی لحاظ سے دیوار سے لگ چکے ہیں۔پارٹی قیادت سے اختلافات کے علاوہ 2008 میں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر بھی ان کا نام مسترد کردیا گیا، جس کا سبب ماضی میں پرویز مشرف سے ان کے رابطے بتائے جاتے ہیں۔تاہم مختصر دوری کے بعد، ایک بار پھر پارٹی قیادت اور ان کے درمیان قربتیں بڑھیں اور انہیں وفاقی کابینہ میں بطور وفاقی وزیرِ تجارت شامل کرلیا گیا۔اس سے قبل بھی امین فہیم نے پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت میں مختلف قلمدانوں کے لیے بطور وفاقی وزیر خدمات سرانجام دیں۔وہ بینظیر بھٹو کے 1988 سے 1990 تک پہلے دور حکومت میں مواصلات اور 1994 سے 1996 تک دوسرے دور حکومت میں ہاو ¿سنگ اینڈ پبلک ورکس کے وفاقی وزیر رہے۔وہ سروری جماعت کے روحانی پیشوا اور مخدوم طالب المولیٰ کے گدی نشین بھی تھے۔مخدوم امین فہیم کے انتقال پر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سمیت اہم رہنماﺅں نے اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مخدوم امین فہیم کی جمہوریت اور پیپلزپارٹی کے لئے قربانیاں لازوال ہیں اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے ، ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ سابق صدر نے کہا انہوں نے پارٹی کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ان کا انتقال صرف پیپلزپارٹی نہیں بلکہ ملکی سیاست کا بھی بڑا نقصان ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما تاجر حیدر نے بھی انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ پارٹی رہنما جہانگیر بدر نے انہیں پارٹی کا اثاثہ قرار دیا۔ وزیراعظم سندھ قائم علی شاہ نے بھی مخدوم امین فہیم کی وفات پر اظہار افسوس کیا۔اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ، یوسف رضا گیلانی، قمر زمان کائرہ سمیت دیگر پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے مخدوم امین فہیم کی وفات کو پیپلزپارٹی اور اس کے کارکنوں کے لئے گہرا صدمہ قرار دیا ۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم انتہائی دلیر انسان اور پارٹی کے لیے مشعل راہ تھے۔تاج حیدر نے کہا کہ جمہوریت کا ایک اہم سپاہی ’آج ہم میں نہیں رہا۔پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم ایک شاعر بھی تھے اور انھوں نے اپنی ساری زندگی جمہوریت کی بالا دستی اور سیاسی جدوجہد میں گزاری۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے امین فہیم کے انتقال کر دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امین فہیم کا خلا پر نہیں کیا جا سکتا۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ امین فہیم بہت اعلیٰ صفت کے انسان تھے اور وہ ہی مجھے سیاست میں لائے تھے، ان کے انتقال سے پیپلز پارٹی ایک بہترین سیاستدان سے محروم ہو گئی۔دوسری جانب صدر مملکت ممنون حسین ،وزیراعظم میاں نوازشریف ، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید ،مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، چوہدری پرویز الٰہی ، مولانا فضل الرحمن ، الطاف حسین ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ،شاہ محمود قریشی ،اسفند یارولی خان ،آفتاب شیرپاﺅ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے مخدوم امین فہیم کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا اور اہل خانہ کے لئے صبر اور مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی۔سیاسی رہنماﺅں نے کہاکہ مخدوم امین فہیم کی جمہوریت کیلئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

 

Leave a Reply