کیڑوں کے ذریعے پلاسٹک ختم کیا جائے گا

تازہ ترین) ماہرین نے پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کا حل دریافت کرلیا ہے ۔ ایک مطالعے کے مطابق جانوروں کے پیٹ میں پائے جانے والے کیڑے میل وارم کو پلاسٹک ختم کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ plastic پلاسٹک کو ختم کرنے کی ایک اہم وجہ جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پلاسٹک بہت سست رفتار ی سے قدرتی انداز میں ختم ہوتی ہے۔ تاہم امریکہ اور چین کی 2 یونیورسٹیز کی جانب سے کی گئی ایک مشترکہ ریسرچ میں پہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ میل وارم کے پیٹ میں کچھ خاص قسم کے مائیکرو آرگنزمز موجود ہوتے ہیں جو پلا سٹک تک  کو ہضم کرسکتے ہیں۔  حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میل وارم صرف پلاسٹک کھا کر بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور انھیں اس کے علاوہ اور کچھ کھانے کی ضرورت نہیں۔

یہ رسرچ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اب سائنسدان میل وارم میں موجود اس انزائم کا پتہ لگاسکتے ہیں جس کے ذریعے وہ پلاسٹک کو ہضم کرتے ہیں اور اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرکے ماحول پر پلاسٹک سے ہونے والے اثرات کو کنٹرول کیا جاسکتاہے۔ریسرچ کے ایک رکن وی من وو نے ایک اعلامیے میں بتایا کہ اس مطالعے سے عالمی آلودگی کے مسائل کی جانب نیا دروازہ  کھل گیا ہے ۔ریسرچرز اب میل وارم میں پائے جانے والے اس بیکٹیریا پر تحقیق کررہے ہیں جس کے ذریعے میل وارم پلاسٹک ہضم کرپاتے ہیں تاہم دنیا کی چند ہی جگہوں پر اس طرح کی تحقیق کی سہولیات موجود ہیں۔

Leave a Reply