ملیئے ملالہ چولستان کا خطاب پانے والی مصباح سے

تازہ ترین)  علم کی  لگن اور منزل کو پا لینے کی  چاہ گر انسان کو مل جائے تو پھر کوئی بھی رکاوٹ انسان کو اس کے مقاصد سے دور نہیں رکھ سکتی ۔ عزمMeet Misbah, malala chulistan ، ہمت اور بہادری کی ایسی ہی داستان رقم کی ہے چولستان کی مصباح نے ۔ ایک کمرے کا سکول  اور صحن میں ایک درخت ۔ بس یہی ہے مصباح کے سکول کا کل رقبہ ۔

ضلعی رابطہ افسر عمران سکندر    کچے کمرے میں 100 طالبعلموں پر مشتمل بچوں کے سکول کا معائنہ  کرنے کے بعد لوٹنے لگے تو پیچھے سے آواز آئی ” ایکسکیوز می سر” ۔ عمران سکندر کہتے ہیں میں تھوڑا سا ٹھٹکا کہ انگریزی میں آواز آئی ہے ۔ میرے سامنے ایک چھوٹی سی بچی کھڑی تھی جو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھ رہی تھی ” کیا چولستان کے بچوں کے لیئے سکول نہیں ہوسکتا؟ کیا چولستان کے بچے ،بچے نہیں ہوتے؟ ”

مصباح کی یہ جرات مندی عمران سکندر کو اس حد تک مجبور کر گئی کہ ضلعی انتظامیہ اور چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے ہنگامی بنیادوں پر مصباح کے گاؤں کے لیئے پختہ سکول کی تعمیر کی رقم کا بندوبست کیا۔  سکول کی عمارت مکمل ہوئی تو چاردیواری ، چار کمروں ، طویل برآمدے ، دو ٹائلٹ ، پینے کے پانی کے نلکے  اور صبح کی اسمبلی کے لیئے سٹیج پر مبنی سکول کو پرائمری سے مڈل سکول کا درجہ بھی دے دیا گیا تاکہ مصباح اپنے سکول میں ہی تعلیم حاصل کر سکے۔

مصباح کی اس بہادری نے انتظامیہ کو اتنا متاثر کیاکہ اب بات مصباح کے گاؤں تک نہیں رہی  بلکہ گزشتہ 1 سال میں 5 سکول بنے اورچولستان کے 75 دیہات کے لیئے پختہ سکول کی عمارتیں منظور ہوئیں۔ علاقے میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہاہے جس کے بعد سکولوں میں بچوں کی تعداد 20 فیصد سے بڑھ کر 5 ہزار ہو گئی ہے ۔ 75 سکولوں کے بچوں میں ساتویں جماعت کی واحد طالبہ مصباح ہے ۔ سب اس سے پیچھے ہیں اور سرکاری افسران انھیں ” ملالہ چولستان” کہتے ہیں۔

Leave a Reply