ایس ایم ایس کے ذریعے شناختی کارڈ کی تصدیق

NADRA ID-V instant CNIC verificationٹیکنالوجی کی دوڑ میں نادرا بھی کسی لحاظ سے پیچھے نہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ نادرا نے ایس ایم ایس کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ قومی   شناختی کارڈ کی تفصیلات حاصل کا نظام متعارف کروا دیا ہے۔لہذا اب اپنے شناختی کارڈ کی تفصیلات کی تصدیق یا تصیح کے لئے نادرا کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں۔اس سہولت کے ذریعے ملازمت کے امیدواروں کے کوائف کی تصدیق انتہائی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔مزید پڑھیں پاکستان میں انٹرنیشنل ڈرایئونگ لائسنس بنانے کا طریقہ کا ر 
بس شناختی کارڈ نمبر کو 7000 پر ایس ایم ایس کردیں۔ یاد رہے کہ نمبر کے درمیان کسی قسم کی خالی جگہ یا ڈیش نہیں ڈالنی۔جواب میں ناردا کی جانب سے موصول ہونے والے ایس ایم ایس میں شناختی کارڈ کے حامل فرد کا نام اور والد کا نام اردو رسم الخط میں بھیجا جائے گا۔
مثال کے طور پر ایس ایم ایس میں لکھیےنمبر 374049922830 اور اسے 7000 پر بھیج دیجیئے۔ایک ایس ایم بھیجنے کا خرچ 10 روپے علاوہ ٹیکس ہوگااگر آپکا خیا ل ہے کہ اسطرح سے شہریوں کی ذاتی معلومات محفوظ نہیں رہیں گی تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اس نظام میں شناختی کارڈ نمبر کے مالک اور اسکے والد کے نام کے علاوہ کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں لہذا یہ ایک قابل قبول اور موثر نظام ہے۔
مزید پڑھیں اب گھر بیٹھے شناختی کارڈ بنوائیں 
ایس ایم ایس تصدیق کے فوائد

اگر اس سہولت سے حاصل ہونے والے فوائد پر نگاہ ڈالی جائے تو اس کے بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً آپ کسی بھی فرد کے کوائف کی فوری تصدیق کر سکتے ہیں ، لہذا کاروباری معاملات ہوں یا نجی تمام شعبوں میں اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
اس سہولت کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مستفید ہو سکتے ہیں کیونکہ عوام الناس کی نسبت انہیں شناختی کارڈ سے متعلق زیادہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔ جسکے لئے انہیں 7001 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا۔
یہ ایس ایم ایس ٹیلی کام کمپنیوں کی طرف سے نادرا کے ڈیٹا سنٹر میں بھیجا جاتا ہے جہاں پر ڈیٹا بیس میں اسکی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ ایک انتہائی محفوظ ذریعہ ہے اور یہ سروس نمبرز مخصوص ہیں۔
نادرا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر موجودہ ملکی حالات پر قابو پانے میں مدد فراہم کر رہاہے۔ اور یہ نیا نظام یقیناً ایک بہت بڑی کاوش ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ملک میں بہتری آنے کا امکان ہے۔

NADRA

Leave a Reply