وزارت خزانہ کا نام،وازارت گردشہ قرضہ ہونا چاہیے

اسلام آباد (تازہ ترین) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں جو فارمولہ لگا کر عوامishaq dar کو بتاتے ہیں وہ غلط فارمولہ استعمال کرتے ہیں ہر وقت قرضے کی باتیں کرتے رہتے ہیں- غلط فارمولا لگا کر قرضوں کی غلط معلومات عوام بتا رہے ہیں اور ہر وقت قرضے کی ہی باتیں ہو رہی ہیں ، لگتا ہے کہ وزارت خزانہ کا نام بدل کر وزارت گردشہ قرضہ رکھ دیا جائے۔

کنٹینر والوں کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا مگر ان پر الزام نہیں لگاﺅں گا ، 2013ءسے کہہ رہا ہوں کہ سب جماعتوں کو ملک کی معیشت پر مل کر کام کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس روٹ میپ موجود کہ ہم نے پچھلے قرضے ادا کرنے کیلئے آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لیا اور دو سالوں میں آئی ایم ایف کو 4.6 ارب ڈالر کا قرض ادا کر چکے ہیں-

 انکا کہناتھا کہ ستمبر 2015ءمیں بیرونی قرضے بڑھ کر 51.5 ڈالر ہو گئے جبکہ غیر ملکی قرضوں کا حجم 65 ارب ڈالر ہے ۔ ہمارے آنے کے بعد تین کھرب ڈالر قرضوں میں اضافہ ہوا اور اگر ہم بروقت اقدام نہ کرتے تو قرض کی رقم 6 کھرب تک جا سکتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے غیر ضروری اخراجات کی مد میں 135 ارب روپے کم کئے ہیں جبکہ آئی ایم ایف سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنا چاہتا تھا جس کی مخالفت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ضرب عضب پر 45 ارب روپے اخراجات ہوئے جبکہ اس سال 100 ارب روپےمختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے اب تک 32 اداروں کی خفیہ فنڈنگ کو بھی روک دیا ہے جبکہ 2 ایجنسیوں کی خفیہ فنڈنگ ابھی تک چل رہی ہے۔

Leave a Reply