New system of ATM machine

People in large numbers queued up in front of an ATM in Sikar’s Ajitgarh area after it started releasing five times the money a customer would request.
A customer entering a request for Rs 100 would get Rs 500. Likewise, the ATM would provide Rs 2,500 on a request for for Rs 500 and Rs 5,000 on a request for Rs 1,000.

تازہ ترین—- اب اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانا ہوا نہایت ہی آسان اب کسی کارڈ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کارڈatm گم ہونے کی ٹینشن کیوکہ  انفارمیشن ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے بل پر بینکاری اور ادائیگی نظام میں ایک اور نیا کارنامہ جو کہ پلاسٹک منی کے ٹرینڈ کواور لین دین کو آپ اپنی پلک جھپکتے ہی کر سکتے ہیں ، اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے کے لیے کارڈ کے بجائے آنکھوں کی پتلی کو پن کوڈ پر کے طور استعمال کیا جائے گا۔ برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے امریکا کے سٹی گروپ نے آزمائشی جانچ شروع کردی ہے تاہم ٹیکنالوجی صارفین کے لیے عام کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، انسانی آنکھ کے پردہ چشم (ریٹینا) کے ذریعے ٹرانزیکشن عام طریقے کے مقابلے میں دگنا کم وقت میں مکمل ہوگا۔عام ٹرانزیکشن 45 سیکنڈز میں مکمل ہوتا ہے جبکہ ریٹینا کے ذریعے ٹرانزیکشن 15سیکنڈ میں مکمل کرلیا جائے گا، اس نادر ٹیکنالوجی پر امریکا کے سٹی گروپ نے کام شروع کردیا ہے اور اس ٹیکنالوجی سے آراستہ کیش مشینیں بنانے والی کمپنی Dieboldکے ساتھ مل کر نیویارک میں واقع کمپنی کے صدر دفتر میں سٹی گروپ کے 30 صارفین پر آزمائشی تجربے کیے جاچکے ہیں آنکھ کی پتلی کو بطور پن کوڈ استعمال کرکے اے ٹی ایم آپریٹ کرنے کے اس جدید طریقے میں موبائل فون ایپلی کیشن بھی استعمال ہوگی، رقوم نکلوانے کے لیے آنکھ کی پتلی سے شناخت ہونےکے بعد رقم موبائل فون کی خاص ایپلی کیشن کے ذریعے درج ہو جائے گی اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانا محفوظ ہوجائے گا، پن کوڈ کی چوری کے ذریعے ہونے والے فراڈ اور دھوکہ دہی کی وارداتوں کا  معاملہ بھی تمام ہو جائے گا۔

Leave a Reply