،برطانیہ میں میڈیا کانفرنس،،،، سنیئرصحافیوں کی شرکت

لندن(تازہ ترین) صحافت ایک اہم کردار ادا کرتی ہے- صحافت کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کرتی ہے- عوام pakistani media confrenceمیں رائے عامہ کو عموار کرتی ہے میڈیا ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن یہ کہنا بھی کسی طور پر سچ نہیں کہ صحافت کےذریعے ہی تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور کسی بھی معاشرے سے تمام برائیوں کا خاتمہ کرسکتا ہے، میڈیا کا کام عوام کو کسی بھی معاملے کے اچھے اور برے دونوں پہلوﺅں سے آگاہی دیتا ہےاور اور لوگوں کو سچ اور جھوٹ سے آگاہ کر کے ان کی اصلاح کرتا ہے- لیکن   میڈیا یا میڈیا والے کسی پر زبردستی نہیں کرسکتے، یعنی سادہ الفاظ میں یوں کہا جائے کہ میڈیا کو رائے عامہ ہموار کرنا ہوتی ہے اور عوام کو اسے مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ دینا ہوتا ہے۔

 پاکستان سے آئے ہوئے نامور صحافیوں نے لندن میں ہونے والی میڈیا کانفرنس میں  اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دنیا بھر میں اردو صحافت میں ایک مقام رکھنے والے ان اصحاب میں مجیب الرحمان شامی، عطا الحق قاسمی، امجد اسلام امجد، رحمت علی رازی، مجاہد بریلوی، سرور منیر راﺅ، انیق احمد، نصراللہ ملک، مشتاق منہاس، افضل بٹ، غریدہ فاروقی، وصی شاہ اور مقامی صحافی شامل تھے۔ کانفرنس کا انعقاد نوجوان صحافی مبین رشید نے اپنی ٹیم کیساتھ مل کرکیا تھا۔ برطانیہ سے لارڈ قربان حسین اس  کے خاص مہمان تھے جبکہ دیگر مقررین میں برطانیہ میں پہلے مسلمان جج صبغت اللہ قادری، پریس کلب برطانیہ کے صدر مبین چوہدری، مشتاق لاشاری، حبیب جان اور امان اللہ خان بھی شامل تھے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جتنی بھی جمہوریت پروان چڑھی اسکا سہرا صرف اور صرف میڈیا کے سر ہے اور اگر یہ بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ جمہوریت اگر گذشتہ آٹھ برسوں میں شتر بے مہار نہیں ہوئی تو یہ بھی میڈیا کا ہی کمال ہے۔

 مقررین نے بڑے کھلے انداز میں پاکستان میں صحافت کے کردار پر گفتگو کی اور سٹیٹ اور سیٹھ کی جانب سے حائل ان رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا جو کسی حد تک صحافی کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے دور رکھتی ہیں۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ اب ذرائع ابلاغ عوام کی زبان بنتے جارہے ہیں، جس سے افراد بھی براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان واقعات کی میڈیا رپورٹنگ کا ذکر کیا گیا جب کوئی شخص قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ظلم کا شکار ہویا محکمانہ غفلت کے نتیجہ میں کوئی متاثر ہوا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سنسنی پھیلانا ایک غیر پیشہ ورانہ اندازِ صحافت ہے، اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر صحافت میں بے پناہ خدمات انجام دینے والے مجیب الرحمان شامی، عطا الحق قاسمی اور رحمت علی رازی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی دیئے گئے۔ تقریب میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان بھی شامل تھی- لندن میں انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے پہلے مرحلے کا انعقاد کامیابی سے تکمیل کو پہنچ گیا ۔پاکستان سے آنے والے نامور صحافیوں اور شعراءسمیت مقامی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیاسی عمائدین اور اوورسیز صحافیوں نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں ریاست کے چوتھے ستون صحافت اور صحافیوں پر عائد ذمہ داریوں کے بارے میں اگاہ کیا ۔ کالم نویس، شاعر اور صحافی عطاءالحق قاسمی نے اپنے مخصوص انداز میں حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ نے کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ چینلز اور اخبارات کے دفاتر نو گو ایریاز بن چکے ہیں اور آج کے پاکستان میں آزاد نئی صحافت کو سٹیٹ سے نہیں بلکہ سیٹھ سے خطرہ ہے۔ معروف اینکر اور سینئر صحافی مشتاق منہاس نے اپنے خطاب میں صحافتی حلقوں میں موجود کالی بھیڑوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ میڈیا کو صحافی چلائیں گے یا گھس بیٹھئے ۔اداکار مذہبی پروگرام کرنے والے معروف اینکر پرسن انیق احمد نے اپنے خطاب میں صحافتی اخلاقیات پر زور دیا۔ کانفرنس کے منتظم مبین رشید نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ آئندہ سال دوبارہ پھر برطانیہ میں میڈیا کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ کانفرنس کے شرکاءنے مبین رشید کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر خراج عقیدت بھی پیش کیا۔سینئیر صحافی رحمت علی رازی نے انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کی مخالفت کرنے والے عناصر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ منفی پراپیگنڈا کرنے والے صحافی   لوگوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر پاکستان کی صحافت کے پانچ بڑے ناموں مجیب الرحمن شامی، امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی، رحمت علی رازی اور مجاہد بریلوی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دئیے گئے۔کانفرنس میں برطانوی دارلامرا ءکے رکن لارڈ قربان حسین، سینئر صحافی نصراللہ ملک، سرور حمید راومعروف شاعر اور صحافی وصی شاہ، خاتون اینکرز غریدہ فاروقی، شازیہ خان، ماہ نور اور سنگر جواد احمد بھی شریک تھے۔ اس کانفرنس میں میڈیا  کے حوالے سے سب شرکا نے اپنی رائے دی-

Leave a Reply