بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروائے،،، ماہرین امراض

تازہ ترین—  ماہرین امراض اطفال کاکہنا ہے کہ بچوں کی سرگرمیوں پر بھی خاص طور پر نظر رکھی جائے اس children کے علاوہ بچوں کی صحت کا جائے اس میں لا پرواہی نہ برتی جائے-  ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ سانس کی بیماریاں عام ہے اور ہر سال ہزاروں بچے نمونیا کے باعث اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے اقدامات اور تدابیر کی انتہائی ضرورت ہے جن سے ان بچوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ سانس کی دیگر بیماریوں کی مناسب دیکھ بھال کر کے بچوں کی تکلیف کم کی جا سکے۔ اور بچوں کے حوالے سے احطیاطی تدابیر کو اپنایا جائے-  ماہرین نے بچوں میں بیماریوں کے موضوع پر پاکستان پیڈیا ٹرک ایسوسی ایشن کے دفتر میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی صحت کی بنیاد نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ  انتہائی ضروری  ہے اور حفاظتی ٹیکوں کا پورا کورس کرانا بھی ضروری ہے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی زمہ داری سے پورا کرایا جائے اس مں غفلت نہ برتی جائے اس کے علاوہ خصوصاً دیہاتی علاقوں میں تنگ گھر زیادہ افراد اور گھروں کی بناوٹ بھی نمونیے کی بیماری کوبڑھاتی ہے۔ ماہرین میں پروفیسر غفار بلو، پروفیسر اقبال میمن، پروفیسر جلال اکبر، ڈاکٹر خالد شفیع اور پروفیسر ایم ا ے لال شامل تھے۔

Leave a Reply