روس اور ترکی آمنے سامنے۔۔۔دفاعی تعلقات کا خاتمہ

Russia and Turkey cut off their defense relation

تازہ ترین) غیر ملکی ذرائع کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے ترکی کے اپنے ساتھ دفاعی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں روسی افواج کے دفاع کے لئے بحیرہ روم میں  کروز میزائل سے لیس ڈیفنس میزائل سسٹم نصب کیا جائے گا جس کی مدد سے کسی بھی خطرے کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ وزارت دفاع کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ شام میں کارروائی کرنے والے روسی بمباروں کی حفاظت کے لئے جنگی جہاز بھی ساتھ ہوں گے۔

روس کے وزیراعظم دمتری میدی دوو کا کہنا ہے کہ ترکی دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے، ہمارے طیارے کو گرا کر بھی ترکی نے داعش کے دہشت گردوں کو تقویت دی ہے، ترکی کے بہت سے اہلکاروں کے داعش کے ساتھ براہ راست معاشی تعلقات ہیں اور ہمارے پاس اس کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس ترکی کے ساتھ بہت سے منصوبوں پر کام بند کرنے اور ترک کمپنوں کو روسی منڈی تک رسائی روکنے کا سوچ رہا ہے جب کہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی ملک کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں چاہتے لیکن روسی طیارے نے ہماری حدود کی خلاف ورزی کی جس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔ روس اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد نیٹو نے ممبر ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تناؤ کی شدت کو کم کرنے کے لئے سکارتکاری ہی بہترین ذریعہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ترکی کی حدود میں آنے والے روسی طیارے کو ترک افواج نے تباہ کردیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

Leave a Reply