سعودی حکومت کیجانب 50ناموں پر پابندی

 تازہ ترین–  سعودی حکومت نے ان ناموں پر پابندی لگا دی ہے جو فسادات پھیلاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ نامsaudi arabia نہیں رکھیے جائے گے – سعودی حکام کی جانب سے کالعدم قرار دئے جانے والے نام مندرجہ ذیل ہیں:مالاک، عبد العطیع،عبد النصیر، عبد المصلح،بنیامین ، نارس، یارا،سیتو، لولینڈ، تلاج، برح، عبد النبی،عبد الرسول، سمو،الماملکہ،ملکہ، ماملکہ،تبارک، ناردین،سینڈی، رامہ، ملین، ایلین، انار،مالکتہنہ،مایا،لنڈا، رنڈا،بسمالہ، جبریل،عبد المعین، ابرار، ایمان،بیان ، بسیل، ویریلم، نبی، نبیا،آمر، تالین،آرم، نریج،ریتل،الائس،لارین ، کبریال اور لورین ہیں- سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے ملک میں 50 ناموں پر پابندی عائد کر دی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے 50 نام دین اور مملکت میں تضاد پھیلانے کے خدشے کے سبب قرار دئے گئے ہیں-

گلف نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عبد النصیر اور بنیا مین جیسے نام خصوصاً مسلمانوں کے لیے جارحانہ قرار نہیں دئے گئے، بنیا مین حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تھے لیکن یہ اسرائیلی وزیر اعظم کانام بھی ہے اسی طرح عبد النصیر عرب میں مشہور ایران کے نیشنلسٹ حکمران کا نام ہے جس کے سعودی عرب کے ساتھ  تعلقات کچھ اچھے نہیں تھے-

Leave a Reply