وائی فائی نے لڑکی کی جان لے لی۔۔۔

تازہ ترین)برطانیہ میں اسکول طالبہ کی پراسرار موت کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ طالبہ نے اسکول میں وائی فائی ڈیوائس سے الرجی کے باعث بار بار ہونے والی الرجی سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسکول کی 15 سالہ طالبہ جینی فرائی کے والدین نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی کو الیکٹرو ہائیپر سینسیٹیوٹی (ای ایچ ایس) کی بیماری تھی جس کے باعث اسے اکثر تھکن، سر درد اور مثانے کے مسائل رہتے تھے۔طالبہ کی والدہ ڈیبرا نے دوران تفتیش بتایا کہ جینی کو آرکسفارڈ شائر میں واقع اپنے اسکول ’چپنگ نارٹن‘ میں موجود وائی فائی ڈیوائس سے بہت مسئلہ تھا، اور جب کوئی ڈاکٹر اس کا مسئلہ حل نہیں کرپایا تو اس نے خود اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔واضح رہے کہ جینی فرائی کی لاش رواں سال 5 ماہ قبل 11 جون کو گھر کے قریب گارڈن کے ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی، تاہم اس وقت اسے پراسرار قرار دیا جارہا تھا۔جینی فرائی کے والدین نے مقامی عدالت کو مزید بتایا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی بیٹی کو وائی فائی سے مسئلہ ہے تو انہوں نے گھر سے بھی وائی فائی ڈیوائس نکال دی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جینی اس الرجی کے باعث اکثر خود کو اسکول کے خالی کلاس روم میں چھپا لیتی تھی اور پڑھائی کے دوران وائی فائی راؤٹر سے ممکن حد تک دور بیٹھتی تھی۔جینی کی والدہ کا کہنا تھا کہ گھر سے وائی فائی ڈیوائس نکالے جانے کے بعد ان کی بیٹی گھر میں بالکل صحت مند رہتی تھی لیکن جیسے ہی وہ اسکول جاتی، اس کے لیے مسائل شروع ہوجاتے تھے۔

Leave a Reply