ایران میں فیری سروس کے انتظامات مکمل،،،،، کامران مائیکل

تازہ ترین— چیمبر آف کامرس کامران مائیکل نے منگل کوصنعتکاروں کو خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ زیارتوںfairy services کیلے ایران میں زائرین کے لیے فیری سروس کا رینٹ بس سے زیادہ لیکن ہوائی جہاز سے نصف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے سبزیاں اور پھل کی دبئی کے لیے برآمد بھی اسپیڈ بوٹس کے ذریعے جلد شروع ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ ان کا مزید کہنا تھا کہ حج اور عمرے کیلے 44  یوم کا بحری سفر عازمین کیلے ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے- جس کی وجہ سے خاصہ غوروفکر کرنے کے بعد منصوبہ ملتوی ہو گیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ حکومت ترقی کے راستوں پر چل پڑی ہے- گوادربندرگاہ پاکستان کا آئندہ کا فیوچر ہے- گوادر بندرگاہ سے منسلک انڈسٹری، ویئرہاسز اوردیگر منصوبوں کے لیے22ہزار ایکڑ سے زائد اراضی حاصل کرلی گئی ہے، کچھ دنوں میں چینی وفد پاکستان آئے گا تو زمین ان کے حوالے کر دی جائی گی- ان کا کہنا تھا کہ کراچی تحفظات پر جہازرانی سے منسلک مسائل کا جائزہ لے گے اور تجاویز کے لیے حال ہی میں جو کمیٹی قائم کی گئی ہےاس کمیٹی کو تحلیل کرتے ہوئے کراچی چیمبرکی مشاورت سے جلد ہی نئی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا جو بندرگاہوں اور جہازرانی کے حوالے سے تاجر برادری کودرپیش تمام مسائل حل پرتوجہ دے گی۔ انہوں نے وفاقی وزیرسے کمیٹی تحلیل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر کے نامزد کردہ حقیقی نمائندوں کو شامل کرتے ہوئے نئی کمیٹی قائم کی جائے۔ سراج تیلی نے کے پی ٹی میں کراچی چیمبرکی نمائندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ وہ  اسی طرز پر پورٹ قاسم اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن میں بھی کے سی سی آئی کے نمائندوں کو بورڈ میں شامل کریں تاکہ ممبران کو بندرگاہوں اور جہاز رانی سے متعلق درپیش آ نے والےمسائل سے براہ راست نمٹا جاسکے۔ بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین زبیر موتی والا نے انفرااسٹرکچر کو بہتر  کرنے پر زور دیا۔  کراچی چیمبرکے صدر یونس محمد بشیر نے مقامی بندرگاہوں پر چارجز زیادہ ہیں جس کے نتیجے میں شپنگ لائنز پاکستان سےامپورٹ اور ایکسپورٹ سے گھبراتی ہیں، اگر ہم پاکستان کوتیزی سے اس ریجن کا مرکز بنتے دیکھنا چاہتے ہیں توااس اہم ایشو کو فوری حل کرنا ضروری ہے، شپنگ کمپنیوں کے چارجز بھی ایسے ہو جن سے تاجروں کو برابری کی بنیاد پر کاروباری سہولت میسرآسکے، کراچی چیمبر اور پی این ایس سی اس حوالے سے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہے۔ انہوں نے تاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لاجسٹک سروس پرووائیڈر ریگولیٹری اتھارٹی بل 2013کی سمری کی منظوری کی ضرورت پر بھی زور دیا جو اب تک پاس نہیں ہو سکا۔

 

 

 

Leave a Reply