سستی اور کاہلی کم سونے کی علامت بھی ہو سکتی ہے

تازہ ترین: صبح اٹھتے ہی سستی اور کاہلی کا شکا ہونا کام میں دل نہ لگنا ، کام سے جی چرانا   یہ علامات کم نیند کی علامات کو ظاہرsleeping habits کرتی ہے-   چست اور ایکٹیو کےلیے ضروری ہے  کہ نیند کی کمی کو ہورا کیا جائے تاکہ  ان عادات کا شکار نہ ہو سکے- وسکنسن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند دماغی طاقت کو بڑھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، تحقیقی ٹیم کی قائد کیریا سیریلی کے مطابق نیند نیورو جینیسز کی نشوونما کرتی ہے یا آسان الفاظ میں یہ طریقہ کار نئے عصبی خلیات کو بڑھاتا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ خواب دیکھ رہے ہو اور ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب آپ انتہائی گہری نیند میں ہو۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کو نیند کی ضرورت اس لیے بھی ہوتی ہے تاکہ آپ کا دماغ یادداشتوں کو تشکیل دینے کے لیے معلومات حاصل اور ان کو ابھار سکے-

اگرچہ نیورولوجسٹس (دماغی ماہرین) کا ماننا ہے کہ نیند کی کمی کو معمول بنالینا ناصرف دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ قوتِ مدافعت کو کم کردیتا ہے، بلکہ فلاڈلفیا کے سینٹر فار سلیپ اینڈ سرکیڈین نیووروبائیولوجی میں ہونے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر ہم روزانہ چار گھنٹوں سے کم سونے کے عادی ہوں تو اس سے لوکس سیرولیوس (ایل سی) نامی وہ عصبی خلیات متاثر ہوتے ہیں جو انسان میں انہماک اور توجہ کا تعین کرتے ہیں-

بہت کم نیند لوگوں کے اندر جنک فوڈ یا موٹاپے کا باعث بننے والی خوراک کا استعمال بڑھا دیتا ہے، جس کی وجہ نیند پوری نہ کرنے کے باعث جسم کے جنیاتی نظام میں آنے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں، 6 گھنٹے یا اس سے کم نیند کی عادت سے بھوک کا باعث بننے والے ہارمون میں تبدیلی آتی ہے اور آپ کے لیے محدود مقدار میں غذا استعمال کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ کم از کم چوہوں پر ہونے والے تجربات میں نیند کی کمی اور ہڈیوں کی کمزوری کے درمیان تعلق پایا گیا ہے، انسانوں میں اسکا تجربہ تو نہیں ہوا مگر نیند کی کمی سے ایسا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

Leave a Reply