فرانس پر حملہ کرنے والوں کو ’بےرحمانہ‘ انداز میں جواب دیا جائے گا

پیرس(تازہ ترین)فرانسیسی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ فرانس کو ملک کے اندر اور باہر دونوں جگہ جنگ کا سامنا ہے اور وہ ہر محاذ پر فتح یاب ہوگا۔مینوئل والس French Prime Minister, not spare france attackersکا کہنا تھا شام  میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔ان کا یہ بیان اس تنظیم کی جانب سے پیرس میں جمعے کی شب ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ہفتے کو فرانسیسی ٹی وی ٹی ایف 1 کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اعظم مینوئل والس نے کہا کہ پیرس میں ہونے والے حملوں پر فرانس کا جواب سخت ہوگا ، ساتھ ہی انھوں نے عوام کومزید حملوںکا سامنا کرنے کیلئے تیاررہنے پر زور دیا۔فرانسیسی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور چونکہ ہم جنگ لڑ رہے ہیں اس لیے اقدامات بھی غیرمعمولی ہوں گے۔‘ ’ہم دشمن کو تباہ کر دینے کے لیے اس پر وار کریں گے۔ وہ فرانس ہو یا یورپ یا پھر شام اور عراق ہم اس حملے کے ذمہ داران اور منصوبہ سازوں کا تعاقب کریں گے۔ ہم یہ جنگ جیت کر رہیں گے۔‘انھوں یہ بھی کہا کہ وہ پارلیمان سے ملک میں نافذ ہنگامی حالت کی مدت میں توسیع کا مطالبہ بھی کریں گے کیونکہ اس سے حکام کو ایک انتہائی منظم دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ اختیارات مل جائیں گے۔فرانسیسی وزیرِ اعظم سے قبل ملک کے صدر فرانسوا اولاند بھی کہہ چکے ہیں کہ پیرس پر حملے داعش کا ’جنگی اقدام‘ ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ فرانس پر حملہ کرنے والوں کو ’بےرحمانہ‘ انداز میں جواب دیا جائے گا۔خیال رہے کہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے داعش نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ’فرانس اور وہ ممالک جو اس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں انھیں معلوم رہے کہ وہ داعش کے اہداف میں سرِفہرست ہیں۔‘بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’پیرس پر حملہ ایک طوفان کا آغاز ہے اور سننے اور سمجھنے والوں کے لیے ایک تنبیہ ہے۔‘

a

Leave a Reply