ویب سائٹ ہیک کر لی گئی

تازہ ترین) گزشتہ روز یونیورسٹی آف سرگودھا کی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی ۔ ہیکر کا دعویٰ ہے کہ وہ یونیورسٹی ہی کا طالبعلم ہے اور  اپنے اس اقدام کے ذریعے یونیورسٹی انتظامیہ اور طالبعلمو ں تک اپناuni of sargodha پیغام پہنچانا چاہتا ہے۔

ڈینگی کے نام سے اپنا تعارف کروانے والے ہیکر نے یونیورسٹی کی ویب سائٹ  پر ایک پیغام چھوڑا ہے ، جو کہ درج ذیل ہے:

ہائے ایوری ون!

برے نتائج سے بچنے کے لئے میں اپنا تعارف نہیں کروارہا، اس سے پہلے میں نے دوسرے طریقوں ( فیس بک اور ای میل) سے اپنا پیغام پہنچانا چاہا لیکن انتظامیہ نے فوراً مجھے بین کردیا۔ میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ایچ او ڈی اور طلبہ کو کچھ باتوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے سی ایس اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو بدترین جگہ بنا دیا ہوا ہے۔

تعلیم اور معیار: سی ایس  اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں اساتذہ اپنے تعلقات کی بنیاد پہ بھرتی کئے جاتے ہیں اور پھر نااہل اساتذہ اپنے کم علمی سے طلبہ کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں ۔

 اساتذہ کا یک طرفہ رویہ: اگر کسی  کے پاس کوئی تعلق یا   واسطہ ہے تو وہ بغیر کوئی کلاس اٹینڈ کئے جہاں تک کہ بغیر مضمون کانام جانتے ہوئے بھی 4 جی پی اے لے سکتا ہے۔

ٹیچرز خدا بن چکے ہیں: جی ہاں، میرا یہی مطلب ہے آپ کسی استاد سے سوال نہیں کرسکتے ، اعتراض نہیں کرسکتے اور کوئی بھی ایسا کام نہیں کرسکتے جو انہیں ناپسند ہو، ورنہ آپ فیل ہوجائیں گے۔

کڑوے سچ:  اساتذہ کے ساتھ ساتھ رہنے سے اور ٹی سی کرنا، 4 جی پی اے کی کنجی ہےوہ اساتذہ جنہوں نے کبھی کوئی سافٹوئیر ٹیسٹ نہیں کیا، وہ سافٹ وئیر ٹیسٹنگ پڑھاتے ہیں۔  وہ اساتذہ جنہوں نے ایک بھی پراجیکٹ مینج نہیں کیا وہ پراجیکٹ مینجمنٹ پڑھاتے ہیں۔  10 میں نے 9 اساتذہ نے زندگی میں ایک بھی سافٹوئیر نہیں بنایا -ہمیں پڑھائے جانے والے 99فیصد  طریقے اساتذہ میں سے کسی نے بھی استعمال نہیں کئے۔ – جو بھی استاد کبھی غلط نہیں ہوسکتا اس لئے آپ درست ہونے کے باوجود غلط ثابت ہوں گے۔ روزانہ ہمیں کافی ساری ڈیفینیشنز رٹائی جاتی ہیں اور کچھ اساتذہ تو لکھنے پہ زور ڈالتے ہیں۔ – سی ایس اور  آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے پڑھنے والے طالب علم آئی ٹی ایکسپرٹ ، ڈویلپر یا پروگرامر نہیں بنتے ، بلکہ وہ صرف استاد بن سکتے ہیں۔ آئی ٹی ہب میں کام کریں اور آپ کو سی ایس آئی ٹی میں جاب دی جائے گی۔ وی سی کو میل لکھیں اور آپ کو کوئی جواب نہیں آئے گا۔

درخواست:  میں اس نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہوں، کمپیوٹر سائنس ایک مشکل مضمون ہے اور اسے پڑھانے کے لئے تجربہ کار اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے ، جنہیں صحیح میں علم ہو کہ وہ کیا پڑھا رہے ہیں ، وہ آپ کو ڈیفینیشنز کو رٹا نہیں لگواتے، اور اس کے علاوہ طلبہ کے پاس ناانصافی اور یک طرفہ اساتذہ کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے کوئی ذریعہ ہونا چاہییے۔ ٹیچر خدا نہیں ہیں۔ نوٹ:  میں ویب سائٹ کے ڈویلپرز کو کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے رابطہ کریں، میں اسے اس ویب سائٹ اور سرور میں موجود سیکیورٹی کے خدشات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ڈینگی

Leave a Reply