دنیا کی سب سے امیر ارب پتی خاتون

تازہ ترین) دنیا کے کامیاب ترین افراد کی بات کی جائے تو ان سب میں ایک بات مشترک پائی جاتی ہے کہ انھوں نے یونیورسٹی کی ڈگری مکمل  کیے بنا ہی تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ لیکن بعد میں یہی لوگ elizabeth holmes مائیکروسافٹ ، فیس بک اور ایپل کے خالق کہلائے اور دنیا کے ارب پتیوں کی فہرست میں جگہ حاصل کی۔  انھی لوگوں میں امریکہ کی ایک نوجوان خاتون الزبتھ ہومز بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنی
یونیورسٹی کی ڈگری ادھوری چھوڑ  دی تھی ۔ تاہم خون کے ٹیسٹ کی انقلابی ٹیکنالوجی کی تخلیق نے الزبتھ کو  دنیا کے کم عمرترین ارب پتیوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے ۔
الزبیتھ نے 19 سال کی عمر میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے کیمیکل انجنیئرنگ کی ڈگری کو ادھورا چھوڑ دیا اور  فیصلہ کیا کہ  وہ صحت عامہ کی دیکھ بھال کے سیاسی منظر نامے میں کوئی بہت بڑی تبدیلی پیدا کریں گی اور اپنی ٹیوشن فیس کو بامقصد اور عظیم مشن کے لیے استعمال کریں گی۔ الزبیتھ  ہومز کا کہنا ہے کہ یہ سوئیاں چبھنے کا خوف تھا جس نے انھیں نئی ٹیکنالوجی کی تخلیق کی طرف آمادہ کیا۔ انھوں نے 2003ء میں کیلی فورنیا پالو آلٹو میں صحت کی ایک ٹیکنالوجی اور میڈیکل لیبارٹری سروس کمپنی  تیرا نوس  شروع کی۔لگ بھگ 11 برس تک خاموشی سے کام کرنے کے بعد الزبیتھ ہومز فوربز کی 400 دولت مند ترین افراد کی2014  کی فہرست میں نیا اضافہ ہیں جبکہ انھیں دنیا کی کم عمر ترین ارب پتیوں میں بھی جگہ حاصل ہوئی ہے۔
فوربز میگزین کے مطابق الزبیتھ ہومز کی کمپنی کی مالیت کا اندازاً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ کمپنی کے کل اثاثے میں سے الزبیتھ 50 فیصد پر کنٹرول کرتی ہیں جبکہ اان کی دولت کا تخمینہ 4.5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ انھیں میگزین کی جانب سے سب سے کم عمر خود ساختہ ارب پتی قرار دیا گیا ہے۔

Leave a Reply